صفحات

Tuesday, 22 March 2022

آنکھوں میں جاگتی ہے جو تحریر خواب کی

 آنکھوں میں جاگتی ہے جو تحریر خواب کی

رہنے دو میرے پاس یہ جاگیر خواب کی

آتی ہے اس گلی سے مہکتی ہوئی صبا

بڑھنے لگی ہے اور بھی توقیر خواب کی

خود آپ اپنی جو کریں ہم جستجو تمام

مل جائے گی وہ ذات میں تنویر خواب کی

درد و الم کی رات ڈھلے تو پتہ چلے

کرب و بلا کی دھوپ میں تصویر خواب کی

صحنِ چمن میں بادِ صبا کا خرامِ ناز

مہکی ہے کس گلی سے یہ تنویر خواب کی

رہبر کے بھیس میں ملے رہزن ہی بار بار

جب سے ملی ہے ہم کو یہ تعبیر خواب کی


اکرام الحق

No comments:

Post a Comment