سدا سے منتظر تھا کب صدا آئے دریچے سے
مِرا دم گھٹ رہا ہے اب، ہوا آئے دریچے سے
تِرے لہجے میں تجھ کو ہی پکارا ہے تو ممکن ہے
ہوا کے ہاتھ اب تیرا پتا آئے دریچے سے
میں دل میں کب تلک بارِ غمِ جاناں لیے پھرتا
جو اس نے در نہیں کھولا، سُنا آئے دریچے سے
کسی کے ہجر کی لذت بڑھی ہے بعد مدت کے
کسی کی یاد کا پنچھی اُڑا آئے دریچے سے
فقیروں کو دئیے ہیں آج تیرے نام پر سکے
کہ تیری زندگی کی پھر دعا آئے دریچے سے
لیا ہے گھر تمہارے گھر کے بالکل سامنے کیونکہ
صدا آئے دریچے سے، سدا آئے دریچے سے
تِری امید پر رکھا تھا اک جلتا دِیا جاناں
اسے بھی آج ہم قصداً بُجھا آئے دریچے سے
اشفاق صائم
No comments:
Post a Comment