اس کو تو میں بھول چکا ہوں
وہ اک نظر مجھے دیکھتی تھی
تو دھڑکنوں میں رِدھم سے بنتے تھے
خون رگوں میں گھنگھرو باندھے
جھوم جھوم کہ ناچتا تھا
شریانیں پھولے نہیں سماتی تھیں
پر جب وہ جاتی تھی
جب وہ جاتی تھی
رِدھم ٹوٹتا تھا دھڑکن تھم سی جاتی تھی
خون کے گھنگھرو پاش پاش ہو جاتے تھے
سُستی سی چھا جاتی تھی
شریانیں جسم کے اندر کھو جاتی تھیں
اب جب اس کا نام و نشاں بھی کہیں نہیں ہے
میں دھوپ میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
خود میں اس کو کھوج رہا ہوں
دھڑکن خون اور شریانوں کی
بے ترتیبی یاد آتی ہے
اس کو تو میں بھول چکا ہوں
عاصم رشید
No comments:
Post a Comment