محبت یوں اترتی ہے
کہیں دل کی منڈیروں پر
کہیں پلکوں کی چھایوں میں
کہیں لب پر دعایؤں میں
کہ جیسے چاندنی
خاموش صحرا میں بکھر جائے
محبت یوں اترتی ہے
کہیں لفظوں کے پیکر میں
صحیفہ ہو کوئی جیسے
کسی مسجد کے منبر پر
کسی مندر کی گھنٹی میں
کلیسا کی صلیبوں پر
کہیں ہبرو، بدھا، نانک
کے قالب میں
مگر کیوں ڈوب جاتی ہے
یہیں نفرت کی جھیلوں میں
محبت پھر اترتی ہے
کہیں بچے کی قلقاری
کہیں ممتا کی سرشاری
کہیں لاچار کی سیوا
کہیں دلبر کی دلداری
کہیں سچایی کی صورت
کہیں انصاف کی مورت
محبت رک نہیں سکتی
محبت کا ٹھکانہ تو
یہی انسان کا دل ہے
فرحین چودھری
No comments:
Post a Comment