Monday, 21 March 2022

محبت یوں اترتی ہے کہیں دل کی منڈیروں پر

 محبت یوں اترتی ہے

کہیں دل کی منڈیروں پر

کہیں پلکوں کی چھایوں میں

کہیں لب پر دعایؤں میں

کہ جیسے چاندنی

خاموش صحرا میں بکھر جائے

محبت یوں اترتی ہے

کہیں لفظوں کے پیکر میں

صحیفہ ہو کوئی جیسے

کسی مسجد کے منبر پر

کسی مندر کی گھنٹی میں

کلیسا کی صلیبوں پر

کہیں ہبرو، بدھا، نانک

کے قالب میں

مگر کیوں ڈوب جاتی ہے

یہیں نفرت کی جھیلوں میں

محبت پھر اترتی ہے

کہیں بچے کی قلقاری

کہیں ممتا کی سرشاری

کہیں لاچار کی سیوا

کہیں دلبر کی دلداری

کہیں سچایی کی صورت

کہیں انصاف کی مورت

محبت رک نہیں سکتی

محبت کا ٹھکانہ تو

یہی انسان کا دل ہے 


فرحین چودھری 

No comments:

Post a Comment