صفحات

Tuesday, 22 March 2022

میں آئینہ ہوں مجھ کو بکھرنے کا ڈر نہیں

 میں آئینہ ہوں مجھ کو بکھرنے کا ڈر نہیں

دنیا یہ جانتی ہے بس اس کو خبر نہیں

پتھر کدھر سے آیا تھا معلوم ہے مجھے

مجھ کو کسی سے آج بھی شکوہ مگر نہیں

سائے میں جس کے بیٹھ کے رو لوں میں دو گھڑی

اس رہگزر میں ایک بھی ایسا شجر نہیں

چُھو لے گا آسماں ذرا موقع تو دو اسے

پنچھی اسیرِ قید ہے بے بال و پر نہیں

اے وقت! بارِ بار نہ مسمار کر اسے

شیشہ نما ہے سنگ کا کوئی جگر نہیں

جس کو بھی دیکھئے ہے زمانے کی فکر میں

خود اپنے خال و خط پہ کسی کی نظر نہیں

مجنوں ہو کیا جو چاک گریبان کر لیا

تنقید کا ذرا سا بھی تم پر اثر نہیں

عطیہ میں خوش ہوں اس لیے جگنو صفات میں

تقدیر میں سبھی کی تو شمس و قمر نہیں


عطیہ نور

No comments:

Post a Comment