صفحات

Tuesday, 22 March 2022

کوئی تو ہوتا جو پوچھ لیتا

 کوئی تو ہوتا

جو عید کے دن یہ پوچھ لیتا

یہ شیو کیونکر بڑھی ہوئی ہے

یہ الجھے بکھرے سے بال کیوں ہیں

سیاہ سوگی لباس پہنے

یہ کس کے غم میں پڑے ہوئے ہو

کوئی تو ہوتا

جو عید کے دن گلے لگا کے یہ پوچھ لیتا

بتاؤ ایسے اداس کیوں ہو

یہ روئی روئی سی سُوجی آنکھیں

سیاہ حلقے

بتاؤ بھی ناں یہ سوگ کیسا

یہ روگ کیسا

کوئی تو ہوتا جو عید کے دن یہ پوچھ لیتا

میں اس کے شانے پہ سر ٹکا کر اسے بتانا

میں زندگی سے نباہ کرتا بھٹک گیا ہوں

میں تھگ کیا ہوں


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment