کوئی تو ہوتا
جو عید کے دن یہ پوچھ لیتا
یہ شیو کیونکر بڑھی ہوئی ہے
یہ الجھے بکھرے سے بال کیوں ہیں
سیاہ سوگی لباس پہنے
یہ کس کے غم میں پڑے ہوئے ہو
کوئی تو ہوتا
جو عید کے دن گلے لگا کے یہ پوچھ لیتا
بتاؤ ایسے اداس کیوں ہو
یہ روئی روئی سی سُوجی آنکھیں
سیاہ حلقے
بتاؤ بھی ناں یہ سوگ کیسا
یہ روگ کیسا
کوئی تو ہوتا جو عید کے دن یہ پوچھ لیتا
میں اس کے شانے پہ سر ٹکا کر اسے بتانا
میں زندگی سے نباہ کرتا بھٹک گیا ہوں
میں تھگ کیا ہوں
میثم علی آغا
No comments:
Post a Comment