صفحات

Wednesday, 23 March 2022

دیواروں پہ چڑھ جاتی ہیں بیلیں اتنے سالوں میں

 دیواروں پہ چڑھ جاتی ہیں بیلیں اتنے سالوں میں

کیا مٹی میں ڈھونڈ رہے ہو کیا رکھا ہے جالوں میں

سونے جیسے لمحے جھونکے ہم نے وقت کی بھٹی میں

کُندن بنتے بنتے اب تو چاندی اُتری بالوں میں

منظر ایسا دیکھا ہے کیا چاند بھنور میں کھونے کا

ڈِمپل پڑتے دیکھے ہیں کیا تم نے اس کے گالوں میں

کروا چوتھ کی رات ہو جیسے، شب ہو پورن ماشی کی

دھیرے دھیرے چاند چَھنا ہے ان آنکھوں کے تھالوں میں

لفظوں کی جھنکار سُنی پر کیسے باندھیں غزلوں میں

سُر کی دیوی ناچ رہی ہے ہم ایسے بے تالوں میں


عاطف جاوید عاطف

No comments:

Post a Comment