تم
مِرے ہاتھ سے نکلا ہوا وہ وقت ہو
جو عمر کے سودے میں خریدا تھا کبھی
تم
مِری آنکھ کا وہ خواب ہو
جو ٹوٹ کے سینے میں گڑا ہے
تو یہ اندازہ ہوا
اس سے پہلے کوئی کِرچی کوئی ٹکڑا دلِ خستہ میں
اس انداز سے اترا کب تھا
میں یہ تیشے جو کبھی کھینچنا چاہوں
تو دلِ زار کی رگ رگ کٹ جائے
اور اگر سینے میں پیوست ہی رہنے دوں
تو خدشہ ہے کہ اس گھاؤ کی تاثیر سے
دل زہر سے بھر جائے گا
شاید اچھا ہے یہی، دوست
کہ تم پھانس کے مانند مِرے حلق میں اٹکے رہو
چلتی ہوئی، تھمتی ہوئی دھڑکن کا ہر اک درد سہو
اور زیاں کی صورت
مِرے مصرعے میں بہو
سیماب ظفر
No comments:
Post a Comment