صفحات

Wednesday, 23 March 2022

رنج و غم کا بادل بھی کس قدر گھنیرا ہے

 رنج و غم کا بادل بھی کس قدر گھنیرا ہے

ہر طرف اداسی ہے، ہر طرف اندھیرا ہے

لے گیا مہِ اکرم، اپنے ساتھ سب خوشیاں

اب نگاہِ صائم میں بے بسی کا ڈیرا ہے

وہ حسیں حسیں راتیں، خواب ہو گئی یکسر

زندگی کے آنگن میں درد کا بسیرا ہے

لطفِ نغمۂ قرآں کھو گیا فضاؤں میں

روزہ داروں کے دل کو رنج و غم نے گھیرا ہے

یہ تِری جدائی کا ہے اثر مِرے‌ مہماں

صبح ہو گئی پھر بھی، ہر طرف اندھیرا ہے

اے خدا!! تجلی کی آبرو بچا لینا

صبح کے تعاقب میں رات کا لٹیرا ہے

میرے دل کی کیفیت ہو گئی ہے سیمابی

ماہِ صوم نے قیصر جب سے منہ کو پھیرا ہے


قیصر صدیقی

No comments:

Post a Comment