صفحات

Wednesday, 23 March 2022

ہماری آنکھ میں وحشت نہیں تو پھر کیا ہے

 ہماری آنکھ میں وحشت نہیں تو پھر کیا ہے

ہمیں یہ ہجر غنیمت نہیں تو پھر کیا ہے

دھڑک رہے ہیں بہم خوبصورتی سے جو ہم

ہمارے بیچ محبت نہیں تو پھر کیا ہے

یہ مسکرانا،۔ ادائیں دکھانا،۔ اٹھلانا

تِری طرف سے سِفارت نہیں تو پھر کیا ہے

برنگِ اشک لہو آنکھ سے طلوع ہوا

اگر یہ دل سے بغاوت نہیں تو پھر کیا ہے

گزارنی ہے بہر حال سو گزاریں گے

جو زندگی میں سہولت نہیں تو پھر کیا ہے

ہمارا نام مٹانے پہ وہ لگے ہوئے ہیں

انہیں جو ہم سے عداوت نہیں تو پھر کیا ہے

ہمیں تمہاری ضرورت ہے دم بہ دم نازش

تمہیں ہماری ضرورت نہیں تو پھر کیا ہے


شبیر نازش

No comments:

Post a Comment