ہماری آنکھ میں وحشت نہیں تو پھر کیا ہے
ہمیں یہ ہجر غنیمت نہیں تو پھر کیا ہے
دھڑک رہے ہیں بہم خوبصورتی سے جو ہم
ہمارے بیچ محبت نہیں تو پھر کیا ہے
یہ مسکرانا،۔ ادائیں دکھانا،۔ اٹھلانا
تِری طرف سے سِفارت نہیں تو پھر کیا ہے
برنگِ اشک لہو آنکھ سے طلوع ہوا
اگر یہ دل سے بغاوت نہیں تو پھر کیا ہے
گزارنی ہے بہر حال سو گزاریں گے
جو زندگی میں سہولت نہیں تو پھر کیا ہے
ہمارا نام مٹانے پہ وہ لگے ہوئے ہیں
انہیں جو ہم سے عداوت نہیں تو پھر کیا ہے
ہمیں تمہاری ضرورت ہے دم بہ دم نازش
تمہیں ہماری ضرورت نہیں تو پھر کیا ہے
شبیر نازش
No comments:
Post a Comment