دل کی مسند سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے
ہم خطاکار سدھارے بھی تو جا سکتے تھے
با خدا اپنے تصرف میں کہاں تھے ورنہ
دو جہاں آپ پہ وارے بھی تو جا سکتے تھے
ایک دل ہی تو گیا ہے غمِ جاناں میں فقط
آسماں، چاند، ستارے بھی تو جا سکتے تھے
آپ کی زلفِ پریشان کے معصوم اسیر
چشمِ نم ناک سے مارے بھی تو جا سکتے تھے
اک تبسم کی بدولت، سبھی عُشاق کے سر
نوک ِ نیزہ سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے
عشق میں آگ کا دریا ہی ضروری تو نہیں
ہم کسی جھیل کنارے بھی تو جا سکتے تھے
جیسے دریا میں بھنور ہم کو ڈبونے نکلا
ویسے ساحل سے سہارے بھی تو جا سکتے تھے
ڈوبتے وقت چلو شور نہ پہنچا اُن تک
میرے ہاتھوں کے اشارے بھی تو جا سکتے تھے
آپ کرتے تو سہی دل کی وراثت تقسیم
میرے حصّے میں خسارے بھی تو جا سکتے تھے
خواب زندہ تو ہیں آنکھوں میں کم ازکم احمد
دل کے زندان میں مارے بھی تو جا سکتے تھے
احمد خلیل
No comments:
Post a Comment