صفحات

Tuesday, 22 March 2022

دل کی مسند سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے

 دل کی مسند سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے

ہم خطاکار سدھارے بھی تو جا سکتے تھے

با خدا اپنے تصرف میں کہاں تھے ورنہ

دو جہاں آپ پہ وارے بھی تو جا سکتے تھے

ایک دل ہی تو گیا ہے غمِ جاناں میں فقط

آسماں، چاند، ستارے بھی تو جا سکتے تھے

آپ کی زلفِ پریشان کے معصوم اسیر

چشمِ نم ناک سے مارے بھی تو جا سکتے تھے

اک تبسم کی بدولت، سبھی عُشاق کے  سر

نوک ِ نیزہ سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے

عشق میں آگ کا دریا ہی ضروری تو نہیں

ہم کسی جھیل کنارے بھی تو جا سکتے تھے

جیسے دریا میں بھنور ہم کو ڈبونے نکلا

ویسے ساحل سے سہارے بھی تو جا سکتے تھے

ڈوبتے وقت چلو  شور نہ پہنچا اُن تک

میرے ہاتھوں کے اشارے بھی تو جا سکتے تھے

آپ کرتے تو سہی دل کی وراثت تقسیم

میرے حصّے میں خسارے بھی تو جا سکتے تھے

خواب زندہ تو ہیں آنکھوں میں کم ازکم احمد

دل کے زندان میں مارے بھی تو جا سکتے تھے


احمد خلیل

No comments:

Post a Comment