صفحات

Tuesday, 22 March 2022

وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیا

 وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیا 

میں نے تجھ کو نہ کسی لمحہ فراموش کیا 

اس کی چاہت نے سنورنے کا سلیقہ بخشا 

شہر کے شہر کو اس شخص نے خوش پوش کیا 

ہجر کے صدمے بہت بخشے یہ سچ ہے لیکن 

لذتِ وصل سے بھی اس نے ہم آغوش کیا 

وقت کی دھول نے کجلا دئے سورج کتنے 

کیسے کیسوں کو زمانے نے فراموش کیا 

تیری قربت نے سکھائی تھی مجھے مے نوشی 

اور فرقت نے تِری مجھ کو بلا نوش کیا 

کیا ملا ترکِ تعلق سے بھی مجھ کو جاوید

یاد نے چھوڑا نہ غم ہی نے سبکدوش کیا


جاوید نسیمی

No comments:

Post a Comment