وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیا
میں نے تجھ کو نہ کسی لمحہ فراموش کیا
اس کی چاہت نے سنورنے کا سلیقہ بخشا
شہر کے شہر کو اس شخص نے خوش پوش کیا
ہجر کے صدمے بہت بخشے یہ سچ ہے لیکن
لذتِ وصل سے بھی اس نے ہم آغوش کیا
وقت کی دھول نے کجلا دئے سورج کتنے
کیسے کیسوں کو زمانے نے فراموش کیا
تیری قربت نے سکھائی تھی مجھے مے نوشی
اور فرقت نے تِری مجھ کو بلا نوش کیا
کیا ملا ترکِ تعلق سے بھی مجھ کو جاوید
یاد نے چھوڑا نہ غم ہی نے سبکدوش کیا
جاوید نسیمی
No comments:
Post a Comment