تیر بن کر کمان سے نکلا
حرف جو بھی زبان سے نکلا
میری دستک سنی تو اک سایا
دل کے اُجڑے مکان سے نکلا
ساتھ لایا پجاریوں کا ہجوم
جو بھی پیکر چٹان سے نکلا
شکر کر اے ذہین دیوانے
تُو خرد کی امان سے نکلا
اک طرف دیر، اک طرف کعبہ
بچ کے میں درمیان سے نکلا
جب بھی چوری ہوا لہو میرا
مفلسی کی دکان سے نکلا
کیوں گہن لگ رہا ہے دھرتی کو
چاند تو آسمان سے نکلا
جو بھی نکلا غزل کا رنگ قتیل
میرے حسنِ بیان سے نکلا
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment