Thursday, 7 April 2022

تیر بن کر کمان سے نکلا

 تیر بن کر کمان سے نکلا

حرف جو بھی زبان سے نکلا

میری دستک سنی تو اک سایا

دل کے اُجڑے مکان سے نکلا

ساتھ لایا پجاریوں کا ہجوم

جو بھی پیکر چٹان سے نکلا

شکر کر اے ذہین دیوانے

تُو خرد کی امان سے نکلا

اک طرف دیر، اک طرف کعبہ

بچ کے میں درمیان سے نکلا

جب بھی چوری ہوا لہو میرا

مفلسی کی دکان سے نکلا

کیوں گہن لگ رہا ہے دھرتی کو

چاند تو آسمان سے نکلا

جو بھی نکلا غزل کا رنگ قتیل

میرے حسنِ بیان سے نکلا


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment