صفحات

Friday, 22 April 2022

بے کار گئی آڑ ترے پردۂ در کی

 بے کار گئی آڑ تِرے پردۂ در کی

اللہ رے وسعت مِرے آغوش نظر کی

پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی

دوزخ تِرے قبضے میں ہے جنت تِرے گھر کی

ایمان کی دولت سے تِرے حسن کا سودا

ایمان کی دولت ہے تِری ایک نظر کی

آ جائے تصور میں کوئی حشر بداماں

پھر میری شبِ غم کو ضرورت ہے سحر کی

وہ سامنے ہیں پھر بھی انہیں ڈھونڈ رہا ہوں

آخر کوئی حد بھی ہے حجاباتِ نظر کی

تنہائیِ فرقت میں جو عالم ہے ادھر کا

ہنگامۂ محفل میں وہ حالت ہے ادھر کی

کچھ سہل نہ پائے ہیں محبت کے مراتب

چھانی ہے بہت خاک تِری راہگزر کی​


شکیل بدایونی​

No comments:

Post a Comment