صفحات

Friday, 22 April 2022

اسے بین کرتی عورتیں بھاتی نہیں

 تنہائی نے اس کے اندر 

نجانے کیسا زہر بھر دیا ہے کہ

اس کے لہجے کی کڑواہٹ 

پلکیں نم کر دیتی ہے

لیکن اشک نوک مژگاں پر دھرے رہتے ہیں 

کیونکہ اسے بین کرتی عورتیں بھاتی نہیں

خاموشی سے تکلم کرتی 

دنیا و مافیہا سے بے خبر

اپنے یوٹوپیا میں مقید ننھی پری 

مجھے انجانے میں 

تنہائی کے اندھے غار میں دھکیل رہی ہے

محبت آسمانوں پر نوحہ خواں 

اپنے ہونے کا پتا پوچھتی ہے 

اداسی کی رم جھم سے من بھیگا رہتا ہے

تہہ در تہہ سناٹے روح کو چھیدتے رہتے ہیں 

لفظ بین کرتے ہیں

ایک بھی حرف تسلی میسّر نہیں 

جس سے درد کی تلافی ممکن ہو 

تعلق کے بیچ دراڑ اتنی گہری ہے

کہ اسے پاٹنا عمر رواں کے بس میں نہیں

دل نے موسم ہجر سے سمجھوتہ کر لیا ہے

کچھ رشتوں کو بچانے کے لیے 

مرگِ دل ضروری ہے 

مردہ محبت کے مرقد پر پچھتاووں کی اگاس 

غم کے موسم کو 

سرسبز رکھتی ہے 


نائلہ راٹھور

No comments:

Post a Comment