تنہائی نے اس کے اندر
نجانے کیسا زہر بھر دیا ہے کہ
اس کے لہجے کی کڑواہٹ
پلکیں نم کر دیتی ہے
لیکن اشک نوک مژگاں پر دھرے رہتے ہیں
کیونکہ اسے بین کرتی عورتیں بھاتی نہیں
خاموشی سے تکلم کرتی
دنیا و مافیہا سے بے خبر
اپنے یوٹوپیا میں مقید ننھی پری
مجھے انجانے میں
تنہائی کے اندھے غار میں دھکیل رہی ہے
محبت آسمانوں پر نوحہ خواں
اپنے ہونے کا پتا پوچھتی ہے
اداسی کی رم جھم سے من بھیگا رہتا ہے
تہہ در تہہ سناٹے روح کو چھیدتے رہتے ہیں
لفظ بین کرتے ہیں
ایک بھی حرف تسلی میسّر نہیں
جس سے درد کی تلافی ممکن ہو
تعلق کے بیچ دراڑ اتنی گہری ہے
کہ اسے پاٹنا عمر رواں کے بس میں نہیں
دل نے موسم ہجر سے سمجھوتہ کر لیا ہے
کچھ رشتوں کو بچانے کے لیے
مرگِ دل ضروری ہے
مردہ محبت کے مرقد پر پچھتاووں کی اگاس
غم کے موسم کو
سرسبز رکھتی ہے
نائلہ راٹھور
No comments:
Post a Comment