Friday, 22 April 2022

عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھ

 عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھ

پھر تِرا ظرف ہے اسے درد سمجھ دوا سمجھ

راہ وفا میں مجھ کو حکم یہ ہے کہ اپنے آپ کو

اٹھ تو غبار کر خیال بیٹھ تو نقش پا سمجھ

میں جو حریم ناز میں شمع صفت خموش ہوں

اس کو بھی اے نگاہِ لطف کوشش التجا سمجھ

اے دلِ بے قرار دوست دور ہے منزل وفا

جا تجھے شوق دے خدا مجھ کو شکستہ پا سمجھ

تیرا چراغ زندگی آخری سانس لے جہاں

عشق کے اس مقام کو دائرۂ بقا سمجھ

دنیا سے اہل عشق کو کوئی نہیں ہے واسطہ

سب سے ہوں میں الگ تھلگ سب سے مجھے جدا سمجھ

میرے نیاز پر ہے تنگ دیر و حرم کی زندگی

اب اسے ابتری سمجھ یا اسے ارتقا سمجھ

ہستیٔ دوست سے الگ تیرا وجود کچھ نہیں

اپنی طرف بھی اب نہ دیکھ خود کو بھی ماسوا سمجھ

ارض و سما برائے دوست کون و مکاں سرائے دوست

جو بھی ہے ماسوائے دوست حرص سمجھ ہوا سمجھ

عشق میں اور حسن میں کوئی نہیں ہے امتیاز

یہ بھی مِری ادا سمجھ وہ بھی مِری ادا سمجھ

جن میں نہ جوش ہو ظفر وہ مِرے زمزمے نہیں

دل سے جو کھیلتی اٹھے اس کو مِری نوا سمجھ


سراج الدین ظفر

No comments:

Post a Comment