صفحات

Sunday, 3 April 2022

سنو اے شاہ دل میرے

 سنو اے شاہِ دل میرے


میں جب بھی لکھنے بیٹھوں تو

تو اے جاناں

تصور میں چلے آتے ہو تم میرے

میں پھر یہ سوچتی ہوں، ہاں

کہ جب تم سے میں نظروں کو ملاؤں گی

میں حالِ دل تمہیں اپنا سناؤں گی

نگاہوں کو جھکا کر میں پیامِ دل سناؤں گی

مِری آنکھوں میں تمہارے نام کے جگنو چمکتے ہیں

وہ جگنو اپنے آنچل میں چھپا کر لاؤں گی جاناں

دکھاؤں گی تمہیں جاناں

ستاروں کی یہ جھلمل سی حسیں کرنیں

مِرے دل پر اترتی ہیں

بناؤں گی میں ان کرنوں سے پھر اک جال چاہت کا

تمہیں اس جال میں پھر قید کر لوں گی

مجھے تم اپنی بانہوں میں کبھی جب قید کرتے ہو

تمہاری اس شرارت پر

مِری کھڑکی سے تکتا چاند بھی چہرہ چھپاتا ہے

میں بانہوں میں تمہاری جب کسمساتی ہوں

مِری پھر روح بھی گہرے سمندر میں اترتی ہے

کہیں پر وصل بھی تو ڈگمگاتا ہے

کوئی پھر گیت گاتا ہے

تمہارے لمس سے کچھ سوئے سپنے جاگ اٹھتے ہیں

میں پھر اپنی ہتھیلی پر تمہارا نام لکھوں گی

میں پھر اپنی ہتھیلی خود ہی چوموں گی

یہ دھیرے سے کہوں گی میں

مجھے تم سے محبت ہے

کہ جس کی انتہا بھی تو نہیں کوئی

مِرے تم شاہ ہو دل کے

مِرے مالک ہو خوابوں کے

گلابی میرے ہونٹوں کے

سنو اے شاہِ دل میرے

سنو سائیں

مجھے اپنا بنا کر تم

محبت کو امر کر دو


دعا علی

No comments:

Post a Comment