صفحات

Friday, 22 April 2022

محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو

 محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو

شکایت درد کی کیوں ہو جفاؤں کا گِلہ کیوں ہو

کسی کے کان تک پہنچے وہ میری التجا کیوں ہو

بر آنا جس کا ممکن ہو وہ میرا مدعا کیوں ہو

یہ راہِ عشق ہے اے دل! مآل اندیشیاں کیسی

جنوں ہے دستگیر اپنا کوئی زنجیر پا کیوں ہو

حیات آرزو پروردۂ آغوش طوفاں ہے

جسے ہو فکر ساحل کی وہ میرا ناخدا کیوں ہو

نہ یہ فریاد ہو گی پھر نہ یہ آہیں نہ یہ نالے

دل ناداں محبت میں حقیقت آشنا کیوں ہو

وہ نظریں خاک میں جن کو ملانا بھی نہیں آتا

انہیں نظروں سے وابستہ ہمارا مدعا کیوں ہو

خدا کے یاد آنے کا بڑا اچھا ذریعہ ہے

شناسائے کرم وہ بانی جور و جفا کیوں ہو

محیط عرش و کرسی جب خدا کا ظل رحمت ہے

منیر اپنی خطا کوشی کی کوئی انتہا کیوں ہو


منیر بھوپالی

No comments:

Post a Comment