صفحات

Friday, 22 April 2022

خبر نہیں ہے کہاں کب کسی کو لگ جائے

 خبر نہیں ہے کہاں کب کسی کو لگ جائے

تمہارے ہجر کی دیمک ہنسی کو لگ جائے

یہ بد دعا کی طرح عشق بھی مصیبت ہے

جو اس سے جان چُھڑائے اسی کو لگ جائے

بُرے دنوں میں بھلی ساعتیں چُرا لانا

بُرائی ہے تو خدایا سبھی کو لگ جائے

بتا رہی ہے بچھڑنے کی آگئی ہے گھڑی

دعا ہے آگ تمہاری گھڑی کو لگ جائے


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment