چھوڑ وحشت کا فسانہ دل لگی کی بات کر
چار دن کی زندگی ہے زندگی کی بات کر
کُھل کے کر اقرار اپنی شدتِ جذبات کا
آج تو اے دوست میری دوستی کی بات کر
میری چاہت سے اگر انکار ہے اچھا تو پھر
تُو نے چاہا ہے جسے اچھا، اسی کی بات کر
تیری آنکھوں میں نہ آئیں اشک یہ ممکن نہیں
تُو کبھی خود سے میری وابستگی کی بات کر
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment