Friday, 22 April 2022

چھوڑ وحشت کا فسانہ دل لگی کی بات کر

 چھوڑ وحشت کا فسانہ دل لگی کی بات کر

چار دن کی زندگی ہے زندگی کی بات کر

کُھل کے کر اقرار اپنی شدتِ جذبات کا

آج تو اے دوست میری دوستی کی بات کر

میری چاہت سے اگر انکار ہے اچھا تو پھر 

تُو نے چاہا ہے جسے اچھا، اسی کی بات کر

تیری آنکھوں میں نہ آئیں اشک یہ ممکن نہیں

تُو کبھی خود سے میری وابستگی کی بات کر


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment