صفحات

Sunday, 3 April 2022

نعرہ زن ہے وحشت تاتار ہم خاموش ہیں

 نعرہ زن ہے وحشت تاتار ہم خاموش ہیں 

لٹ رہا ہے مصر کا بازار ہم خاموش ہیں

نیل کے ساحل پہ اترے رہزنوں کے 

دیدۂ اسلام ہے خونبار ہم خاموش ہیں

آج کیونکر مصلحت نے روک دی تیری زباں 

آج کیوں اے جرأتِ اظہار ہم خاموش ہیں

اک ہمیں تھے جن کو توفیق سخن تھی بزم میں 

ہم تھے مشرق کے لبِ گفتار ہم خاموش ہیں

بول اے مسلمان! خاموشی کی یہ ساعت نہیں 

طعنہ زن ہیں ہر طرف اغیار ہم خاموش ہیں


سیف الدین سیف

No comments:

Post a Comment