نعرہ زن ہے وحشت تاتار ہم خاموش ہیں
لٹ رہا ہے مصر کا بازار ہم خاموش ہیں
نیل کے ساحل پہ اترے رہزنوں کے
دیدۂ اسلام ہے خونبار ہم خاموش ہیں
آج کیونکر مصلحت نے روک دی تیری زباں
آج کیوں اے جرأتِ اظہار ہم خاموش ہیں
اک ہمیں تھے جن کو توفیق سخن تھی بزم میں
ہم تھے مشرق کے لبِ گفتار ہم خاموش ہیں
بول اے مسلمان! خاموشی کی یہ ساعت نہیں
طعنہ زن ہیں ہر طرف اغیار ہم خاموش ہیں
سیف الدین سیف
No comments:
Post a Comment