صفحات

Thursday, 7 April 2022

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

 اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

تیر ہر شخص کی کمان میں ہے

جس کو دیکھو وہی ہے چپ چپ سا

جیسے ہر شخص امتحان میں ہے

کھو چکے ہم یقین جیسی شے

تُو ابھی تک کسی گمان میں ہے

زندگی سنگ دل سہی، لیکن

آئینہ بھی اسی چٹان میں ہے

سر بلندی نصیب ہو کیسے

سرنگوں ہے کہ سائبان میں ہے

خوف ہی خوف جاگتے سوتے

کوئی آسیب اس مکان میں ہے

آسرا دل کو اک امید کا ہے

یہ ہوا کب سے بادبان میں ہے

خود کو پایا نہ عمر بھر ہم نے

کون ہے جو ہمارے دھیان میں ہے


امیر قزلباش

No comments:

Post a Comment