کوئی بوند لاؤ خرابات سے
مجھے آگ لگتی ہے برسات سے
میری بات اتنی دلِ آزار تھی
خفا ہو گئے تم میری بات سے
تجھے اس لیے میں نہیں دیکھتا
مجھےعشق ہے کچھ تیری ذات سے
جوانی خِرد سے درخشاں نہیں
جوانی منور ہے جذبات سے
مغنی! میرے حال پر رحم کھا
مجھے پُھونک دے نغمات سے
مجھے دو جہاں کی خوشی مل گئی
تیری اتفاقی ملاقات سے
عدم! جامِ صہبا اٹھاؤ ذرا
سویرا نکل جائے گا رات سے
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment