Thursday, 7 April 2022

کوئی بوند لاؤ خرابات سے

 کوئی بوند لاؤ خرابات سے

مجھے آگ لگتی ہے برسات سے

میری بات اتنی دلِ آزار تھی

خفا ہو گئے تم میری بات سے

تجھے اس لیے میں نہیں دیکھتا

مجھےعشق ہے کچھ تیری ذات سے

جوانی خِرد سے درخشاں نہیں

جوانی منور ہے جذبات سے

مغنی! میرے حال پر رحم کھا

مجھے پُھونک دے نغمات سے

مجھے دو جہاں کی خوشی مل گئی

تیری اتفاقی ملاقات سے

عدم! جامِ صہبا اٹھاؤ ذرا

سویرا نکل جائے گا رات سے


عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment