صفحات

Wednesday, 8 June 2022

عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی

 عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی

اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

ہم بھی ویسے نہ رہے، دشت بھی ویسا نہ رہا

عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی

وہ جو برباد ہوئے تھے تِرے ہاتھوں وہی لوگ

دم بخود دیکھ رہے ہیں تِری حیرانی بھی

آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح

تن ملبوس! یہ پہنی ہوئی عریانی بھی

یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں

دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی


سعود عثمانی

No comments:

Post a Comment