صفحات

Wednesday, 8 June 2022

چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا شکریہ

 چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا، شکریہ

اور بٹھا کر پھر نظر سے بھی گرایا، شکریہ

تھا بڑا ہی شوق جس کو قربتوں کا کل تلک

راستہ بھی ہجر کا اس نے دکھایا، شکریہ

ڈھونڈتا تھا عکس اپنا میرے خال و خد میں جو

آج مٹی میں مجھے اس نے ملایا، شکریہ

روشنی کہہ کر دھوئیں میں مجھ کو اس نے گم کیا

دل لگی، دل کی لگی کو ہی بنایا، شکریہ

میری اک مسکان پر قربان ہوتا تھا کبھی

پھر اسی سنگ دل نے ہی مجھ کو رلایا، شکریہ

سامنے دریا کی صورت میں ہے جو صحرا قبول

زندگی جو رنگ بھی تو نے دکھایا، شکریہ

اک تمہاری ہی وفا پر مان تھا شاہینؔ کو

سنگ سب سے پہلے تم نے ہی اٹھایا، شکریہ


نجمہ شاہین کهوسہ 

No comments:

Post a Comment