احساس کے دھاگے میں پروئے نہیں جاتے
الفاظ میں کچھ درد سموئے نہیں جاتے
کچھ آنکھ کی سرخی ہے جو رہتی ہے سدا سرخ
کچھ اشک کہ دھونے سے بھی دھوئے نہیں جاتے
نقصان ہوا ہے میاں! نقصان ہوا ہے
ایسے ہی کسی بات پہ روئے نہیں جاتے
کچھ ایسے تعلق ہیں کہ جو بارِ گراں ہیں
کچھ بوجھ مشقت سے بھی ڈھوئے نہیں جاتے
خورشیدِ قیامت کی تجلی ہے تِرا جسم
ہم یوں ہی تجھے دیکھ کے کھوئے نہیں جاتے
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment