Thursday, 9 June 2022

احساس کے دھاگے میں پروئے نہیں جاتے

 احساس کے دھاگے میں پروئے نہیں جاتے

الفاظ میں کچھ درد سموئے نہیں جاتے

کچھ آنکھ کی سرخی ہے جو رہتی ہے سدا سرخ

کچھ اشک کہ دھونے سے بھی دھوئے نہیں جاتے

نقصان ہوا ہے میاں! نقصان ہوا ہے

ایسے ہی کسی بات پہ روئے نہیں جاتے

کچھ ایسے تعلق ہیں کہ جو بارِ گراں ہیں

کچھ بوجھ مشقت سے بھی ڈھوئے نہیں جاتے

خورشیدِ قیامت کی تجلی ہے تِرا جسم

ہم یوں ہی تجھے دیکھ کے کھوئے نہیں جاتے


افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment