صفحات

Saturday, 2 July 2022

اگر میں چیخوں تو کیا کرو گے

 اگر میں چیخوں


اگر میں چیخوں

میں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوں

تو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گا

یہی کہ

اندھے کنویں سے اک بازگشت ہو گی

کہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟

تمہی بڑے آئے ہو کہیں کے

یہ آسمان و زمیں

یہ سورج یہ چاند تارے

تمام ماں باپ سارے اجداد

شہر کے سب شریف زادے

انہیں بھی دیکھو

یہ سب مصیبت زدہ، متانت سے

بردباری میں سہہ رہے ہیں

تمہی میں برداشت کی کمی ہے

اگر میں چیخوں تو

میری آواز بھی ملامت کرے گی مجھ کو

وہ سب کہیں گے

کہ کون یہ شور کر رہا ہے

ہماری نیندیں اچاٹ کر دیں

اگر میں چیخوں

تو سارا امن و سکون

نظم اور نسق

مجھ کو خلاف قانون، دشمن خلق کہہ کر

صلیب دے گا

مگر یہ چیخوں بھرا ہوا دل

کسی بھی لمحے

مجھے کہیں خوفناک راہوں پہ ڈال دے گا

صلاح دے گا

کہ زور سے چیخو

کہ جسم کے ساتھ

روح بھی سرد ہو گئی پھر

تو کیا کرو گے


فرحت احساس

No comments:

Post a Comment