دل میں غم کتنا ہے، لہجے میں مسرت کتنی
زخم سہنے میں بھی رہتی ہے سہولت کتنی
بھولتے ہی نہیں اس موہنی صورت کے نقوش
ڈھونڈتا رہتا ہوں چہروں میں شباہت کتنی
نور جتنا ہو قباؤں میں مگر دیکھتا ہوں
ان چراغوں کے تلے رہتی ہے ظلمت کتنی
خوبصورت سے مقابر پہ کھڑا سوچتا ہوں
لطف کتنا مجھے لینا ہے، نصیحت کتنی
گوشۂ کنجِ چمن ہو کہ ہو محرابِ نماز
کس جگہ دیکھیے لگتی ہے طبیعت کتنی
ہوش کا کتنا تناسب ہو بتادیں مجھ کو
اور اس عشق میں درکار ہے وحشت کتنی
تیرے اندازِ رعونت پہ بھی برتی ہم نے
دیکھ اے صاحبِ دستار مروت کتنی
دیکھ یہ ہاتھ مِرا، اور بتا دست شناس
رزق کتنا ہے مقدر میں، محبت کتنی
دل کے اپنے ہی تقاضے ہیں، بدن کے اپنے
کیا خبر کتنی محبت ہے، ضرورت کتنی
مجید اختر
No comments:
Post a Comment