صفحات

Wednesday, 13 July 2022

اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی

 اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی


اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی

اب رین کہاں جو سووت ہے

لڑکپن کھیل میں کھویا

جوانی نیند بھر سویا

بڑھاپا دیکھ کے رویا

جو سووت سو کھووت ہے

جو جاگت ہے سو پاوت ہے


اٹھ نیند سے اکھیاں کھول ذرا

اور اپنے رب سے دھیان لگا

یہ پریت کرن کی ریت نہیں

رب جاگت ہے تُو سووت ہے


جو کل کرنا ہے آج کر لے

جو آج کرنا ہے اب کر لے

جب چڑین نے چگ کھیت لیا

پھر پچھتائے کیا ہووت ہے


نادان بھگت کرنی اپنی

اے پاپی پاپ میں چین کہاں

جب پاپ کی گٹھڑی سیس دھری

پھر سیس پکڑ کیوں رووت ہے


کبیر​ داس

No comments:

Post a Comment