صفحات

Wednesday, 13 July 2022

نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں نمی دانم کجا رفتم

 منم محو جمال او نمی دانم کجا رفتم

شدم غرق دصال او نمی دانم کجا رفتم

میں اس کے حسن و جمال میں کھویا ہوا ہوں اور نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں

میں اس کے دیدار میں ڈوبا ہوا ہوں اور نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں

غلام روئے او بودم اسیر بوئے او بودم

غبار کوئے او بودم نمی دانم کجا رفتم

میں اس کے رخ انور کا غلام ہوں میں اس کی خوشبو کا دیوانہ ہوں

میں اس کی گلی کی اڑتی ہوئی مٹی ہوں نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں

بآں مہ آشنا گشتم زجان ودل من فدا گشتم

فنا گشتم فنا گشتم نمی دانم کجا رفتم

جب سے اس چاند سے شناسا ہوا ہوں میں دل و جان سے قربان ہو گیا ہوں

میں کھو گیا ہوں مٹ گیا ہوں نہیں جانتا کدھر جا رہا ہوں

شدم چون مبتلائے او نہادم سر بپائے او

شدم محو لقائے او نمی دانم کجا رفتم

جب سے اس کے عشق میں پڑا ہوں اپنا سر اس کے قدموں پہ رکھ دیا ہے

میں ہمہ وقت اُس سے ملا ہوا ہوں، نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں

قلندر بو علی ہستم بنام دوست سر مستم

دل اندر عشق او بستم نمی دانم کجا رفتم

میں بو علی قلندر ہوں دوست کے نام پر بیخود ہوں

میرا دل محبوب کی محبت میں گرفتار ہے نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں


بو علی شاہ قلندر

شیخ شرف الدین 

No comments:

Post a Comment