بوسہ
در دو چشمش گناه می خندید
بر رخش نورِ ماه می خندید
اس کی دو آنکھوں میں گناہ ہنس رہا تھا
اس کے چہرے پر چاند کا نور ہنس رہا تھا
در گزرگاهِ آن لبانِ خموش
شعلہ ای بی پناه می خندید
ان خاموش لبوں کی گزرگاہ میں
ایک بے یاور شعلہ ہنس رہا تھا
شرمناک و پر از نیازی گنگ
با نگاہی کہ رنگِ مستی داشت
شرمائے ہوئے اور ایک گونگی نیاز سے پُر
مستی کا رنگ رکھنے والی ایک نگاہ کے ساتھ
در دو چشمش نگاه کردم و گفت؛
باید از عشق حاصلی برداشت
میں نے اس کی دو آنکھوں میں جھانکا اور اس نے کہا
عشق سے ایک ثمر چُن لینا چاہیے
سایہ ای روئ سایہ ای خم شد
در نہان گاهِ راز پرورِ شب
ایک سایہ ایک سائے پر خم ہوا
شب کی راز پرور نہاں گاہ میں
نفسی روئ گونہ ای لغزید
بوسہ ای شعلہ زد میانِ دو لب
ایک سانس ایک گال پر پھسلی
ایک بوسے نے دو لبوں کے درمیان آگ لگا دی
فارسی شاعری؛ فروغ فرخ زاد
No comments:
Post a Comment