لمس نما جادو نے تین طلسموں کا سامان کیا
آنکھ کو ششدر، دل کو ترپٹ، پوروں کو حیران کیا
ایک جھپک میں، میں نے دیکھا تین سو تیرہ بار اسے
ایسے دو سالوں میں پورا صدیوں کا نقصان کیا
رات کا پربت کاٹتے پلکیں خود پتھر ہو جاتی تھیں
پھر تم نے کچھ خواب دکھائے، آنکھوں پر احسان کیا
کچھ نے پار اتر کر گایا ملاحوں کا میٹھا گیت
کچھ نے ڈوب کے دریا کی دلجوئی کا سامان کیا
ماہ نور رانا
No comments:
Post a Comment