اگر کوئی پوچھے
جو لوگ دوسروں کے خداؤں سے
اپنی دعائیں قبول کرانا چاہے ہیں
وہ اپنی دائیں ایڑی میں گڑنے والی کیل کی چبھن
بائیں میں محسوس نہیں کر سکتے
بعض لوگوں کو خدا ورثے میں ملتا ہے
بعض کو تحفے میں
بعض اپنی محنت سے حاصل کرتے ہیں
بعض چُرا لیتے ہیں
بعض فرض کر لیتے ہیں
میں نے خدا قسطوں پر خریدا تھا
قسطوں پر خریدے ہوئے خدا
اس وقت تک دعائیں پوری نہیں کرتے
جب تک ساری قسطیں ادا نہ ہو جائیں
ایک بار
میں خدا کی قسط وقت پر ادا نہ کر سکا
خدا کو میرے پاس سے اٹھا لے جایا گیا
اور جو لوگ مجھے جانتے تھے
انہیں پتا چل گیا
کہ اب نہ میرے پاس خدا ہے
اور نہ قبول ہونے والی دعائیں
اور
میرے لیے اک خدا فرض کر لینے کا موقع بھی جاتا رہا
افضال احمد سید
No comments:
Post a Comment