صفحات

Wednesday, 13 July 2022

ڈرا ہوا ہوں تبھی تو سمٹ کے آیا ہوں

 ڈرا ہوا ہوں تبھی تو سمٹ کے آیا ہوں

میں اک چراغ کی لو سے لپٹ کے آیا ہوں

نجانے کون سے رستے میں شام ہو گئی ہے

اسے ملا ہوں، نہ واپس پلٹ کے آیا ہوں

کبھی کسی کو میں یکلخت بھی میسر تھا

تمہارے پاس تو حصوں میں بٹ کے آیا ہوں

یہاں پہنچنے کا مقصد تو ایک جیسا ہے

مگر میں دوسرے لوگوں سے ہٹ کے آیا ہوں

کوئی کہیں سے بھی پوچھے اسے بتا دوں گا

کسی کو اتنے حوالوں سے رٹ کے آیا ہوں

پتنگ باز سمجھتے ہیں نفسیات میری

میں ایک کانچ کی ڈوری سے کٹ کے آیا ہوں


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment