ڈرا ہوا ہوں تبھی تو سمٹ کے آیا ہوں
میں اک چراغ کی لو سے لپٹ کے آیا ہوں
نجانے کون سے رستے میں شام ہو گئی ہے
اسے ملا ہوں، نہ واپس پلٹ کے آیا ہوں
کبھی کسی کو میں یکلخت بھی میسر تھا
تمہارے پاس تو حصوں میں بٹ کے آیا ہوں
یہاں پہنچنے کا مقصد تو ایک جیسا ہے
مگر میں دوسرے لوگوں سے ہٹ کے آیا ہوں
کوئی کہیں سے بھی پوچھے اسے بتا دوں گا
کسی کو اتنے حوالوں سے رٹ کے آیا ہوں
پتنگ باز سمجھتے ہیں نفسیات میری
میں ایک کانچ کی ڈوری سے کٹ کے آیا ہوں
دانش نقوی
No comments:
Post a Comment