Wednesday, 13 July 2022

دل خدا کی بستی میں رہنے کو میں رہ تو لوں

 دل خدا کی بستی میں 

رہنے کو میں رہ تو لوں 

پہلے خود کو سہہ تو لوں 

من کا پردہ کھول دیا ہے

جو تھا سچ وہ بول دیا ہے 

جھوٹ کی راہ میں پلتی دنیا 

من سچے کی سمجھے کون 

دل مولا اور مجھ بھولے کی 

ہر خواہش جیسے فرعون


کامران سعید خان

No comments:

Post a Comment