Wednesday, 13 July 2022

جو میرے غم کا عزادار ہونے والا تھا

 جو میرے غم کا عزادار ہونے والا تھا

وہ میرا پہلا خریدار ہونے والا تھا

میں اس سے ہاتھ چھڑا کر چلا گیا ورنہ

وہ شخص میرا طلبگار ہونے والا تھا

وہ میرے زخم پہ مرہم لگانے اب آیا

کہ اب تو زخم بھی غمخوار ہونے والا تھا

دلیل ہوں تِری مقبول التجاؤں کی

وگرنہ میں تو سرِ دار ہونے والا تھا

ہوا کا شکریہ جس نے جلائے رکھا ہے

نہیں تو بجھ کے دِیا خار ہونے والا تھا

بچایا تجھ سے مجھے میری رائیگانی نے

میں پھر سے تیرا طرفدار ہونے والا تھا

تِرے طفیل مجھے نیند آ گئی کاتب

وگرنہ خود سے میں بیزار ہونے والا تھا


سجاد کاتب

No comments:

Post a Comment