جو میرے غم کا عزادار ہونے والا تھا
وہ میرا پہلا خریدار ہونے والا تھا
میں اس سے ہاتھ چھڑا کر چلا گیا ورنہ
وہ شخص میرا طلبگار ہونے والا تھا
وہ میرے زخم پہ مرہم لگانے اب آیا
کہ اب تو زخم بھی غمخوار ہونے والا تھا
دلیل ہوں تِری مقبول التجاؤں کی
وگرنہ میں تو سرِ دار ہونے والا تھا
ہوا کا شکریہ جس نے جلائے رکھا ہے
نہیں تو بجھ کے دِیا خار ہونے والا تھا
بچایا تجھ سے مجھے میری رائیگانی نے
میں پھر سے تیرا طرفدار ہونے والا تھا
تِرے طفیل مجھے نیند آ گئی کاتب
وگرنہ خود سے میں بیزار ہونے والا تھا
سجاد کاتب
No comments:
Post a Comment