پیلی دھوپ میں پیڑ کے سائے جیسا ہے
جسم میں رہنا ایک سرائے جیسا ہے
سرد مزاجی گُھل جائے جب باتوں میں
پھر یہ رشتہ ٹھنڈی چائے جیسا ہے
وزن سے خالی شعروں جیسا عشق مِرا
اور تِرا ناقد کی رائے جیسا ہے
اکثر خیر خبر لینے آ جاتا ہے
درد کسی اچھے ہمسائے جیسا ہے
وحشت بھی مشکل سے کمائی جاتی ہے
کومل ہجر مجھے سرمائے جیسا ہے
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment