صفحات

Thursday, 18 August 2022

بات کہنے کا گر قرینہ ہو

 بات کہنے کا گر قرینہ ہو

تو کوئی بات ان سنی نہ ہو

آپ جچتے ہیں میری بانہوں میں

تاج میں جس طرح نگینہ ہو

یاد اس کی نہ آئے تیسوں دن

سال میں ایک تو مہینہ ہو

پھر تسلی رہے گی گر تیرے

ہجر کا نام قرنطینہ ہو💔

ثبت ہو آپ کا سخن اس پر

دل مِرا آپ کا سفینہ ہو💖

صنفِ نازک بنائے ہے مجنوں

نام لیلیٰ ہو، یا زرینہ ہو

جان عدنان اس طرح نکلے

آپ کا ہاتھ، میرا سینہ ہو


عدنان خالد شریف

No comments:

Post a Comment