بات کہنے کا گر قرینہ ہو
تو کوئی بات ان سنی نہ ہو
آپ جچتے ہیں میری بانہوں میں
تاج میں جس طرح نگینہ ہو
یاد اس کی نہ آئے تیسوں دن
سال میں ایک تو مہینہ ہو
پھر تسلی رہے گی گر تیرے
ہجر کا نام قرنطینہ ہو💔
ثبت ہو آپ کا سخن اس پر
دل مِرا آپ کا سفینہ ہو💖
صنفِ نازک بنائے ہے مجنوں
نام لیلیٰ ہو، یا زرینہ ہو
جان عدنان اس طرح نکلے
آپ کا ہاتھ، میرا سینہ ہو
عدنان خالد شریف
No comments:
Post a Comment