دیکھ لو آ کے تم بھی شہرِ فغاں
غم کے مارے یہیں پہ رہتے ہیں
تم جہاں سے گزر کے جاتے ہو
سب نظارے وہیں پہ رہتے ہیں
وہ کہ جو زندگی کا حاصل تھے
کیا خبر کس زمیں پہ رہتے ہیں
جن کو دولتِ یقیں میسّر تھی
اب وہ شک کی زمیں پہ رہتے ہیں
آسماں پر ہے روشنی کیسی
جب ستارے زمیں پہ رہتے ہیں
دیکھ لو ضبط ہے کہ اہلِ زباں
چپ سے اس سر زمیں پہ رہتے ہیں
ہم کو قبروں سے ڈر نہیں لگتا
اپنے پیارے وہیں پہ رہتے ہیں
غمِ یعقوبؑ تو تسلی ہے
اپنے یوسفؑ کہیں پہ رہتے ہیں
طاہرہ الطاف
No comments:
Post a Comment