Thursday, 18 August 2022

جانے کیا سوچ کر بنایا تھا

 جانے کیا سوچ کر بنایا تھا؟

اس نے شانوں پہ سر بنایا تھا

اپنی ہمت سے قد نکالا ہے

اس نے تو مختصر بنایا تھا

اب کنارے پہ داد چاہتے ہیں

وہ جنہوں نے بھنور بنایا تھا

تجھ سے پوچھیں نہ تیرے بارے میں

اس لیے تُو نے ڈر بنایا تھا

میں نہیں دیتا زندگی کا حساب

کیا مجھے پوچھ کر بنایا تھا؟


عدنان نصیر

No comments:

Post a Comment