بیداری میں نین سُلگتے رہتے ہیں
نیند مِلے تو خواب مچلتے رہتے ہیں
بادل چُپکے سے چھا جاتے ہیں دل پر
دو نیناں پھر خوب برستے رہتے ہیں
ہجر کی ماری رات بھٹکتی پھرتی ہے
چاند ستارے دُور چمکتے رہتے ہیں
دستک کھوئی رہتی ہے خاموشی میں
شور مچاتے لوگ گزرتے رہتے ہیں
میں تو سکوں سے جلدی ہی سو جاؤں، پر
یادوں کے کچھ سائے سسکتے رہتے ہیں
فیصل فارانی
No comments:
Post a Comment